ریو : فیفا ورلڈ کپ میں مسلم ملک بھی شریک ہیں اور یورپی ٹیموں میں بھی
مسلمان کھلاڑیوں کی کمی نہیں۔
ایسے میں کوئی روزہ رکھ رہا ہے اور کوئی
نہیں۔ ماہ رمضان مسلم فٹبالرز کے لئے امتحان، جرمنی کے مشہور فٹبالر مسعود
اوزیل اور فرانس کے بکری سنیا نے تو اس حوالے سے صاف انکار کردیا ہے، جب کہ
الجزائر کی ٹیم منیجر واحد خلیل ہودچ اس سوال پر ہی برہم ہیں۔ ان کے مطابق
روزہ رکھنا کسی بھی انسان کا ذاتی مسئلہ ہے۔
آئیوری کوسٹ کے کولو طورے کا خيال ذرا مختلف ہے، بھلے ہی ان کی ٹیم ایونٹ سے باہر ہوگئی، پر ان کا کہنا ہے اگر ماہ مبارک کے دوران میچز ہوتے تو وہ روزہ ضرور رکھتے۔ یورپین ٹیمز میں بھی بڑی تعداد میں مسلمان کھلاڑی موجود ہیں۔ فرانس کی ٹیم میں شامل مسلمان کھلاڑیوں میں کریم بینزیما، مامدو سکو، بکری سنیا اور موسیٰ سیسو شامل ہیں۔
بیلجیم کی ٹیم میں مروین فلینی، موسی دمبیلے اور عدنان یانو زائی مسلمان ہیں، سوئٹزرلینڈ کے مسلمان کھلاڑیوں کی تعداد چھ ہے، جن میں دفاعی کھلاڑی فلپ سیندیروس کا نام اہم ہے۔
برازیل میں اگرچہ روزہ گیارہ گھنٹے کا ہے، پر فٹبال جیسے مشکل کھیل کے میگااوینٹ کے دوران رمضان کی آمد نے مسلم کھلاڑیوں کا امتحان دگنا کردیا ہے۔
آئیوری کوسٹ کے کولو طورے کا خيال ذرا مختلف ہے، بھلے ہی ان کی ٹیم ایونٹ سے باہر ہوگئی، پر ان کا کہنا ہے اگر ماہ مبارک کے دوران میچز ہوتے تو وہ روزہ ضرور رکھتے۔ یورپین ٹیمز میں بھی بڑی تعداد میں مسلمان کھلاڑی موجود ہیں۔ فرانس کی ٹیم میں شامل مسلمان کھلاڑیوں میں کریم بینزیما، مامدو سکو، بکری سنیا اور موسیٰ سیسو شامل ہیں۔
بیلجیم کی ٹیم میں مروین فلینی، موسی دمبیلے اور عدنان یانو زائی مسلمان ہیں، سوئٹزرلینڈ کے مسلمان کھلاڑیوں کی تعداد چھ ہے، جن میں دفاعی کھلاڑی فلپ سیندیروس کا نام اہم ہے۔
برازیل میں اگرچہ روزہ گیارہ گھنٹے کا ہے، پر فٹبال جیسے مشکل کھیل کے میگااوینٹ کے دوران رمضان کی آمد نے مسلم کھلاڑیوں کا امتحان دگنا کردیا ہے۔

No comments :
Post a Comment